لاہور۔ 29 ستمبر۔ جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن نے کہا ھے کہ
فارم 47 کی حکومت نے جماعت اسلامی کے ساتھ کئے گئے 45 دن کے تحریری معاھدے کے مطابق اقدامات نہیزن کیے۔ اور آج ملک بھر کے اضلاع میں جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کو اُلٹنے اور گرفتاریاں کرنے کے فسطائی ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ھے۔
انہوں نے ضلعی ذمہ داران سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے بجلی کی قیمت کم کر نے، آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کر کے ظالمانہ معاھدے منسوخ کرنے، سلیب سسٹم ختم کرنے، ملازمین پر لگائے جانے والے ظالمانہ ٹیکسوں کو ختم کرنے کے معاھدے سے منحرف ہو کر 25 کروڑ عوام کو دھوکہ دیا ھے۔
اس فریب کاری پر جماعت اسلامی پاکستان نے ملک بھر میں 147 ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر دھرنوں کا اعلان کیا اور حکومت نے اس اعلان سے حواس باختہ ہو کر گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں اور مقدمات بنانا شروع کر دیئے،
امیر ضلع لودھراں ڈاکٹر طاہر احمد چوہدری ،امیر ضلع گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا،امیر ضلع خانیوال ہارون الرشید نظامی ایڈووکیٹ، امیر ضلع راجن پور ڈاکٹر عرفان اللّٰه ملک، امیر زون قلعہ دیدار سنگھ ڈاکٹر قمر رمضان حسن اور سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ جس حکومت کا آخری وقت قریب آتا ھے وہ انہی اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آتی ھے اور جبر و تشدد سے عوامی تحریک کو دبانے کی مذموم کوششں کرتی ھے
انہوں نے کہا کہ تمام راھنماؤں اور کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور حکومت اپنے معاھدے کے مطابق تمام نکات پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ بصورت دیگر یہ تحریک حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 6 اکتوبر کو کراچی اور 7 اکتوبر کو اسلام آباد میں عظیم الشان ملین مارچ کرے گی اور ماہ رواں میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کے سوال پر ملک گیر ریفرنڈم کروا کر حکمرانوں کے چہروں سے نقاب اتار پھینکے گی۔.
(اظہر اقبال حسن
ڈپٹی سیکرٹری جنرل
جماعت اسلامی پاکستان
